نئی دہلی،2؍جولائی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) زائرہ وسیم نے اپنے کام کو ان کے ایمان کے راستے میں آنے کی بنیاد بتا کر فلموں میں اداکاری چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ فلموں میں کام چھوڑنے کے ان کے فیصلے پر سیاسی گلیارے میں بحث چھڑ گئی ہے۔ بحث اس لیے بھی جھڑ گئی ہے ؛کیوں کہ زائرہ نے اسلام کا حوالہ دے کر بالی ووڈ سے سنیاس لیے لیا ہے ۔ کانگریس اور این سی کے رہنماؤں نے اسے اداکارہ کو ذاتی فیصلہ بتا کر جہاں ان کے فیصلے کی حمایت کی ہے وہیں شیوسینا نے اسے ان کے مذہب کی آڑ میں غلط تاثر بنانے والا بتایا ہے۔ اتوار کو فیس بک پر اپنے لمبے پوسٹ میں 18 سالہ کشمیری اداکارہ نے کہا کہ اس پیشے (فلموں) میں انہوں نے پانچ سال پورے کر لئے ہیں اور اب وہ اعتراف کرنا چاہتی ہیں کہ آپ اس کام سے ملنے والی پہچان سے وہ واقعی میں خوش نہیں ہیں۔ اداکارہ کے اس فیصلے پر رائے دینے والے رہنماؤں میں کانگریس لیڈر ملند دیوڑا، نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ اور شیوسینا کی پرینکا چترویدی شامل ہیں۔ کانگریس لیڈر ملند دیوڑا نے ٹویٹ کیا کہ :’ کچھ منافق لوگ اچانک زائرہ وسیم اور نصرت جہاں کو تعلیم دینے لگے ہیں۔ یہاں جنوبی ممبئی میں میرے بہت سے ہندو اور جین دوست ہیں، جنہوں نے اپنے گرووں اور مذہب کے نام پر اپنے شاندار کیریئر تک کو چھوڑ دیا۔